بیسٹ گیمز کا آڈیشن: دو ہزار امیدوار، چار آزمائشیں، اور صرف ایک ہزار نشستیں

YouTube پر کھولیں ↗
جائزہ

اس ویڈیو میں مسٹر بیسٹ (جمی) لاس ویگاس کے الیجینٹ اسٹیڈیم میں پچاس لاکھ ڈالر کے ڈھیر پر بیٹھ کر اعلان کرتے ہیں کہ دو ہزار امیدوار ایک سلسلہ وار آزمائش میں حصہ لیں گے۔ یہ ابھی اصل مقابلہ نہیں بلکہ آڈیشن ہے۔ جیتنے والوں کو ان کی دس قسطوں پر مشتمل ایمیزون پرائم ویڈیو سیریز "بیسٹ گیمز" میں جگہ ملے گی۔ جمی امیدواروں سے کہتے ہیں کہ اپنے دائیں بائیں دیکھیں، کیونکہ ویڈیو کے اختتام تک ان میں سے ایک ہزار باہر ہو چکے ہوں گے۔ باقی ایک ہزار سیریز میں جائیں گے اور ان میں سے ایک شخص پچاس لاکھ ڈالر کا انعام لے کر جائے گا، جسے جمی "زندگی بدل دینے والا اور ریکارڈ توڑ" انعام کہتے ہیں۔

11 منٹ کا مطالعہ

ویڈیو میں چار آزمائشیں دکھائی گئی ہیں: طاقت، یادداشت، جوا اور حکمتِ عملی، اور آخر میں اعتماد۔ ہر مرحلے میں جمی کا بنیادی سوال یہی ہے کہ پچاس لاکھ ڈالر کی کشش لوگوں کے فیصلوں اور آپس کے تعلقات پر کیا اثر ڈالتی ہے۔

پہلی آزمائش: دس ہزار پاؤنڈ کی چٹان

پہلا چیلنج طاقت کا تھا۔ دو ہزار امیدواروں کو چار چار سو افراد کے پانچ گروہوں میں بانٹا گیا۔ ہر گروہ کو دس ہزار پاؤنڈ وزنی چٹان رسیوں سے کھینچ کر ختم لائن کے پار پہنچانی تھی۔ جو گروہ سب سے آخر میں پہنچتا، وہ پورا مقابلے سے باہر ہو جاتا۔ وزن سن کر کچھ امیدوار حیران رہ گئے، ایک نے کہا کہ دیکھ کر ہی اس کے بازو درد کرنے لگے۔ ایک ٹیم نے طاقتور افراد کو آگے رکھنے کی حکمتِ عملی بنائی، جبکہ ایک امیدوار نے صاف کہا کہ وہ اس کے لیے خود کو تیار نہیں سمجھتا۔

مقابلہ شروع ہوا تو تین ٹیمیں جلد ہی پہنچ گئیں اور آخری مقابلہ پیلی اور لال ٹیم کے درمیان رہ گیا۔ لال ٹیم کے ارکان کو چلتے مقابلے ہی میں احساس ہو گیا کہ وہ پیچھے رہ رہے ہیں۔ آخرکار پیلی ٹیم پہنچ گئی اور لال ٹیم کے چار سو افراد باہر ہو گئے۔ ایک رکن نے مایوسی سے کہا کہ اس نے خود سے یہی ایک بات کہی تھی کہ پہلے باہر نہیں ہونا۔

یہیں جمی نے اعلان کیا کہ ہر شریک کو صرف حاضر ہونے پر دو ہزار ڈالر ملیں گے، چاہے وہ کسی بھی مرحلے پر باہر ہو۔ ان کے مطابق ویڈیو کے صرف تین منٹ گزرے تھے اور وہ آٹھ لاکھ ڈالر دے چکے تھے۔ دو ہزار شرکاء کے حساب سے صرف شرکت کے لیے چالیس لاکھ ڈالر بنتے ہیں۔ آزمائشیں سخت ہونے لگیں تو کچھ لوگوں نے خود ہی دو ہزار ڈالر لے کر گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ ایک نے کہا کہ اس نے چوبیس گھنٹے گزار لیے اور اب نکلنے کا وقت ہے۔ جمی نے اسے شاید اچھا فیصلہ کہا، کیونکہ آگے آزمائشیں اور سخت ہونی تھیں۔ پہلے چیلنج کے بعد 1,596 کھلاڑی باقی رہ گئے۔

دوسری آزمائش: بریف کیسوں کا سمندر

دوسرے چیلنج میں ٹیموں کے اندر ہی مقابلہ تھا۔ جمی نے کہا کہ اب ساتھی ہی ایک دوسرے کے حریف ہوں گے۔ ہر ٹیم کے سامنے بریف کیسوں کا ایک بڑا میدان بچھا تھا۔ کچھ بریف کیسوں میں "محفوظ" لکھا تھا اور کچھ میں "خارج"۔ جمبوٹرون پر مختصر وقت کے لیے نقشہ دکھایا جاتا کہ محفوظ بریف کیس کہاں ہیں۔ امیدواروں کو ان کی جگہیں یاد رکھ کر دوسروں سے پہلے ایک بریف کیس اٹھانا تھا۔ ہر چار سو افراد کی ٹیم میں سے پچاس کے ہاتھ خارج شدہ بریف کیس آنے تھے۔

پہلے گلابی ٹیم آئی۔ نقشہ دکھایا گیا تو امیدوار قطاروں اور نمبروں کو دہرا کر یاد کرنے لگے۔ دوڑ ختم ہوئی تو کچھ لوگوں کو یقین نہیں تھا کہ ان کے ہاتھ میں کیا ہے۔ جمی نے ایک امیدوار سے پوچھا کہ کیا اس کی پچاس لاکھ کی امید پوری طرح اسی کیس پر ہے اور اسے بالکل پتہ نہیں کہ اس میں کیا ہے۔ جواب ہاں میں تھا۔ بریف کیس کھلے تو ساڑھے تین سو لوگوں کو سبز اور پچاس کو سرخ نظر آیا۔ محفوظ رہنے والوں میں کئی خود حیران تھے۔

اس کے بعد بریف کیسوں کی ترتیب بدل کر نارنجی ٹیم کو بلایا گیا۔ ان میں سے بھی پچاس باہر ہوئے اور انہیں دو ہزار ڈالر دیے گئے۔ پھر سبز ٹیم کی باری آئی اور اس کے بھی پچاس کھلاڑی باہر ہوئے۔ سبز ٹیم کے دوران جمی بار بار پیلی ٹیم سے کہتے رہے کہ غور سے دیکھیں، یہ بہت ضروری ہے۔ آخری راؤنڈ کے لیے جمی کے پاس، ان کے اپنے الفاظ میں، "کچھ زیادہ ہی شیطانی منصوبہ" تھا۔ پیلی ٹیم کے لیے بریف کیس اسی ترتیب میں رکھے گئے جو سبز ٹیم کے لیے تھی، لیکن نقشہ صرف چند سیکنڈ کے لیے دکھایا گیا۔ کچھ امیدواروں نے اسے ناانصافی اور غیرمنطقی کہا۔ جمی کے مطابق اس دوڑ میں سب کی حکمتِ عملی بس بھاگنا تھی اور نیچے کوئی پراعتماد نہیں لگ رہا تھا۔

دوسرے چیلنج کے بعد 1,400 کھلاڑی باقی تھے۔ لمبے دن کے بعد سب نے آرام کیا اور کچھ امیدوار پیسوں کے قریب سوئے۔ ایک گروہ نے نعرہ لگایا کہ "ہم ساتھ چلتے ہیں، ساتھ سوتے ہیں، ساتھ جیتتے ہیں۔" ایک امیدوار نے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے لیے کچھ بھی کرے گی، اور دوسرے کے مطابق شاید ہی کوئی کام ہو جو وہ یہ پیسہ جیتنے کے لیے نہ کرے۔

تیسری آزمائش: جھنڈے، صبر، اور جوا

جمی کے مطابق تیسرے چیلنج کے قواعد سادہ تھے۔ میدان میں جھنڈے لگائے جاتے اور آگے جانے کے لیے ہر شخص کو ایک جھنڈا لینا تھا۔ امیدوار 1,400 تھے اور جھنڈے 1,100، یعنی تین سو کو باہر ہونا تھا۔ ہر راؤنڈ میں مختلف تعداد میں جھنڈے لگائے جاتے۔ اصل شرط یہ تھی کہ جو شخص سرخ لکیر پار کرے، اسے جھنڈا لینا ہی ہوگا ورنہ وہ باہر ہے۔ یعنی ہر شخص کو خود طے کرنا تھا کہ کب دوڑے: جلدی، جب جھنڈے کم اور دوڑنے والے بھی کم ہوں، یا بعد میں، جب جھنڈے زیادہ ہوں مگر مقابلہ بھی سخت ہو۔

پہلے راؤنڈ میں صرف دس جھنڈے تھے۔ جمی نے خبردار کیا کہ اگر کوئی پوری طرح پرعزم نہیں تو یہ پیچھے ہٹ کر اگلے راؤنڈ کا انتظار کرنے کا آخری موقع ہے۔ ہارن بجا تو تقریباً کوئی نہیں دوڑا۔ صرف بارہ لوگ نکلے، جن میں سے دو ایک ہی جھنڈے کے لیے بھاگے اور ٹکرا گئے۔ دس کو جھنڈے ملے اور دو باہر ہوئے۔ جمی نے اعتراف کیا کہ ان کا خیال تھا سینکڑوں لوگ دوڑیں گے اور لوگ ان کی توقع سے زیادہ سمجھدار نکلے۔

دوسرے راؤنڈ میں پچاس جھنڈے تھے۔ اس سے پہلے امیدواروں نے آپس میں جھنڈوں کے نمبر بانٹنا شروع کر دیے، کسی نے کہا "میرا 47 ہے"، کسی نے "24"۔ جمی نے اسے حکمتِ عملی کہا مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر ایک شخص بھی معاہدے سے پھر گیا تو سب پچاس لاکھ کا موقع کھو دیں گے۔ اس راؤنڈ میں پانچ لوگ باہر ہوئے۔ اگلے راؤنڈ میں جمی کے اندازے کے مطابق آٹھ لوگ باہر ہوئے۔ ان کا مشاہدہ تھا کہ لکیر پار کرنے والوں میں سے زیادہ تر کو جھنڈا مل جاتا ہے، اس لیے آخر تک انتظار کرنے والوں کی حالت شاید بہتر نہیں۔

جمی کو سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ لوگ گروہوں میں مل کر کام کر رہے تھے، باری باری ایک دوسرے کو جھنڈے لینے دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا لوگ اتنے اچھے کیوں ہیں، یہ پچاس لاکھ ڈالر ہیں، آخرکار لوگ ایک دوسرے سے دغا کریں گے کیونکہ کسی نہ کسی کو گھر جانا ہے۔ جھنڈے کم ہوتے گئے تو شدت بڑھتی گئی۔ کچھ لوگ دوڑتے ہوئے گر پڑے، اور جمی نے اسے اب تک کا اپنا سب سے جنونی چیلنج کہا۔

ایک موقع پر 179 لوگ باقی تھے اور سو جھنڈے۔ جمی نے پچاس جھنڈے نکالے اور کہا کہ اب حکمتِ عملی اہم ہے: صرف دو راؤنڈ باقی ہیں، تو کیا ایک اور راؤنڈ انتظار کرنے سے امکانات بہتر ہوں گے یا بدتر؟ اس راؤنڈ کے بعد بھی قطار میں 115 لوگ تھے اور آخری راؤنڈ کے لیے صرف پچاس جھنڈے۔

کارل کا "یو"

آخری راؤنڈ سے عین پہلے جمی کے بقول انہوں نے "سب سے بڑی ممکنہ غلطی" کی: مائیک اپنے دوست کارل کو دے دیا۔ کارل نے حوصلہ بڑھانے کے لیے "بیسٹ گیمز، یو!" کہا اور بہت سے امیدواروں نے اسے آغاز کا اشارہ سمجھ کر لکیر پار کر لی۔ جمی کا کہنا تھا کہ پورے چیلنج میں یہ بالکل واضح تھا کہ ہر راؤنڈ ہارن بجنے پر شروع ہوتا ہے، کارل کے "یو" پر نہیں۔ ایک موقع پر کہا گیا کہ پچاس لوگ ابھی باہر ہو گئے، جبکہ جمی نے کارل سے کہا کہ اس کے "یو" نے اکتیس لوگوں کو باہر کر دیا۔ قریب کھڑے لوگوں نے اسے ظالمانہ کہا اور کارل نے خود کو یہ کہہ کر بچانے کی کوشش کی کہ اس نے تو صرف "یو" کہا تھا۔

پھر اصل آخری راؤنڈ ہارن پر شروع ہوا اور 1,100واں جھنڈا بھی اٹھا لیا گیا۔ 1,100 لوگ اگلے مرحلے میں پہنچ گئے۔ ایک امیدوار نے کہا کہ پاگل پن کے علاوہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جسے وہ ہمیشہ یاد رکھے گا کہ وہ مسٹر بیسٹ کی ویڈیو میں تھا۔

چوتھی آزمائش: سو افراد کا پلیٹ فارم اور اعتماد کا امتحان

آخری چیلنج سے پہلے جمی نے سیریز کے بارے میں چند دعوے کیے: ان کے مطابق شو کی ہر قسط ان کی اب تک کی سب سے بڑی یوٹیوب ویڈیو سے بھی بڑی ہے، انہوں نے پورا ایک شہر بنایا ہے، ایک نجی جزیرہ دیا جا رہا ہے، اور انعامات تفریح کی تاریخ میں سب سے بڑے ہیں۔

اس چیلنج کے لیے 1,100 لوگوں کو سو سو کے گروہوں میں بانٹا گیا۔ جمی نے کہا کہ اس کا طاقت یا رفتار سے کوئی تعلق نہیں، یہ پوری طرح اعتماد کا امتحان ہے، اور اختتام تک کوئی ایک شخص اپنے پورے گروہ سے غداری کرے گا۔ گروہ بنتے وقت ہی بےچینی نظر آئی۔ کچھ لوگ اجنبیوں پر بھروسہ نہیں کر پا رہے تھے، کچھ نئے آنے والوں کو شک کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ ایک امیدوار نے کہا کہ اس کی بقا ایسے لوگوں پر ہونا مایوس کن ہے۔ ایک اور نے بتایا کہ اس کے گروہ کے ایک لڑکے نے مذاق میں کہا تھا کہ دس ہزار میں اسے آسانی سے خریدا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف کچھ لوگ اپنے گروہ کے بارے میں پراعتماد تھے اور کہہ رہے تھے کہ کوئی نہیں ٹوٹے گا۔

قاعدہ یہ تھا کہ جو شخص پلیٹ فارم سے اترے گا، وہ خود بھی باہر ہوگا اور اس کا پورا پلیٹ فارم بھی۔ ابتدا میں ماحول جوشیلا تھا۔ گروہوں نے "ٹیم نو ڈیل" جیسے نعرے لگائے اور جمی کو کہا کہ انہیں پیسے نہیں چاہییں، حالانکہ جمی نے ابھی کچھ پیش ہی نہیں کیا تھا۔ جمی نے کیمرے کے سامنے کہا کہ عام طور پر وہ فلم بندی سے پہلے نہیں گھبراتے مگر اس مرحلے سے انہیں ڈر لگ رہا ہے، کیونکہ ایک شخص کو بہت سا پیسہ ملے گا اور ننانوے لوگ غمگین ہوں گے۔

تین رشوتیں: پانچ ہزار، پچاس ہزار، اور دس لاکھ

جمی تین رشوتیں لائے اور پہلے صرف دکھائیں، فعال نہیں کیں۔ پہلی پانچ ہزار ڈالر کی تھی۔ اگر وہ ناکام ہوتی تو دوسری پچاس ہزار ڈالر کی، اور اگر تمام 1,100 لوگ دونوں ٹھکرا دیتے تو تیسری دس لاکھ ڈالر کی، جو جمی کے مطابق انعامی رقم کا پانچواں حصہ ہے۔ طریقہ یہ تھا کہ ٹائمر شروع ہونے کے بعد جو شخص سب سے پہلے زمین کو چھوئے، اسے رقم ملے، اور یوں وہ اپنے باقی ننانوے ساتھیوں کو باہر کر دے۔

پانچ ہزار ڈالر کی پیشکش پر ہر ٹیم نے انکار کیا۔ لوگ کہتے رہے کہ پانچ ہزار کچھ نہیں اور انہیں نہیں چاہییں۔ جمی کے بقول ان 1,100 لوگوں کے لیے دغا کی قیمت واضح طور پر پانچ ہزار ڈالر سے زیادہ تھی، اس لیے یہ پیشکش ختم کر دی گئی۔

مگر پچاس ہزار کی تیاری کے ساتھ ہی، جمی کے مطابق، پورے اسٹیڈیم کا ماحول بدلنے لگا۔ ہر پلیٹ فارم پر کچھ لوگ کنارے کی طرف سرکنے لگے۔ ویڈیو یہاں امیدواروں کے ذاتی محرکات دکھاتی ہے: ایک شخص نے اپنی سات ماہ کی بیٹی لیلا کا نام لے کر کہا کہ یہ سب اس کے لیے ہے۔ کسی نے کالج کی ڈگری مکمل کرنے کی بات کی، کسی نے جانور بچانے کی، کسی نے معذور والد کے لیے گھر خریدنے کی۔ ایک خاتون نے بتایا کہ ان کا گھر جل گیا تھا، اور کچھ نے کہا کہ وہ اس مقابلے کے لیے نوکری چھوڑ چکے ہیں۔ جمی کا تبصرہ تھا کہ لوگوں نے پانچ ہزار کو شاید منع کر دیا ہو، مگر پچاس ہزار کی کہانی مختلف ہے۔

وقت سے پہلے کی چھلانگ

جمی کے مطابق انہیں توقع نہیں تھی کہ پیشکش اتنی پرکشش ہوگی کہ کوئی ٹائمر شروع ہونے سے پہلے ہی کود جائے، مگر یہی ہوا۔ ایک خاتون نے پلیٹ فارم سے چھلانگ لگا دی جبکہ جمی نے ابھی ٹائمر شروع نہیں کیا تھا۔ اس لیے انہیں پچاس ہزار ڈالر نہیں ملے، لیکن قاعدے کے مطابق وہ لائن سے ہٹ چکی تھیں، اس لیے ان کا پورا پلیٹ فارم باہر ہو گیا۔ جمی نے کہا کہ ننانوے لوگ صرف اس ایک چھلانگ کی وجہ سے پچاس لاکھ کے موقع سے محروم ہو گئے، اور یہ بھی کہ کم از کم دس لاکھ کا انتظار کر لیا ہوتا۔ ان کے ساتھیوں کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ ان کے ساتھ یہ ہو گیا، اور وہ بیسٹ گیمز کے اگلے مرحلے میں نہ جا پانے پر شدید مایوس تھے۔ جمی نے پلیٹ فارم نمبر چھ کو بتایا کہ کوئی پیسہ نہیں ملے گا اور وہ سب باہر ہیں۔

یوں دس لاکھ ڈالر والی تیسری پیشکش کی نوبت ہی نہیں آئی۔ ایک پلیٹ فارم کے سو افراد کے نکلنے سے باقی ایک ہزار لوگ سیریز کے لیے منتخب ہو گئے۔

اختتام: اصل مقابلہ ابھی باقی ہے

جمی ویڈیو کا اختتام یہ کہہ کر کرتے ہیں کہ آخری آزمائش بہت سخت تھی، لیکن یہ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو باقی ایک ہزار امیدواروں کا منتظر ہے۔ ان کے مطابق ان لوگوں نے اب تک کی سب سے بڑی مقابلہ سیریز میں جگہ بنا لی ہے، اور ان میں سے ایک پچاس لاکھ ڈالر جیت کر جائے گا، مگر اس سے پہلے انہیں بیسٹ گیمز کے مرحلوں سے گزرنا ہوگا۔

پوری ویڈیو میں ایک تضاد بار بار سامنے آتا ہے۔ جمی کا مفروضہ تھا کہ اتنی بڑی رقم کے سامنے لوگ ایک دوسرے سے دغا کریں گے، مگر جھنڈوں والے چیلنج میں امیدواروں نے حیرت انگیز حد تک تعاون کیا اور پانچ ہزار کی رشوت متفقہ طور پر ٹھکرا دی۔ دوسری طرف دو موقعوں پر بہت سے لوگ ایک غلط اشارے یا ایک شخص کی جلدبازی سے باہر ہوئے: کارل کے "یو" پر اور ٹائمر سے پہلے کی چھلانگ پر۔